پاکستان اس وقت تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں سیاسی کشمکش، معاشی بے یقینی، بڑھتی مہنگائی، کمزور گورننس اور سرمایہ کاروں کے عدم اعتماد نے ریاستی ڈھانچے کو شدید دباؤ میں مبتلا کردیا ہے۔ ایک طرف سیاسی قوتیں اقتدار کی جنگ میں مصروف ہیں تو دوسری طرف عام پاکستانی شہری مہنگائی، بے روزگاری، بجلی کے بھاری بلوں اور غیر یقینی مستقبل کے بوجھ تلے دبتا جارہا ہے۔
ایک جمہوری حکومت کی اولین ترجیح عوامی فلاح، مضبوط معیشت، امن و امان، آزاد عدلیہ، شفاف احتساب اور گڈ گورننس ہونی چاہیے۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران عوام نے سیاسی نعروں سے زیادہ سیاسی انتقام، ادارہ جاتی کشمکش اور اقتدار کی رسہ کشی دیکھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ملک کے اندر شدید مایوسی اور بے یقینی پائی جاتی ہے۔
سیاسی عدم استحکام: معیشت کا سب سے بڑا دشمن
دنیا کے کسی بھی ملک میں سرمایہ کاری صرف وسائل یا آبادی کی بنیاد پر نہیں آتی بلکہ سرمایہ کار سب سے پہلے استحکام، پالیسیوں کے تسلسل اور قانونی تحفظ کو دیکھتا ہے۔ پاکستان میں مسلسل سیاسی بحران، حکومتوں کی تبدیلی، احتجاجی سیاست، اور طاقت کے مختلف مراکز کے درمیان تناؤ نے بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بری طرح متاثر کیا ہے۔
سرمایہ کار یہ سوال پوچھتا ہے:
“کیا میں اگلے دس سال اس ملک میں محفوظ اور مستحکم کاروبار کرسکتا ہوں؟”
بدقسمتی سے پاکستان اس سوال کا واضح اور مثبت جواب دینے میں ناکام نظر آتا ہے۔
عالمی کمپنیاں کیوں پیچھے ہٹ رہی ہیں؟
پاکستان میں کئی بین الاقوامی کمپنیاں یا تو اپنی سرمایہ کاری محدود کررہی ہیں یا خاموشی سے مارکیٹ سے نکل رہی ہیں۔ حالیہ برسوں میں ٹیکنالوجی، صنعت اور توانائی کے شعبوں میں عالمی اداروں کی دلچسپی کم ہوئی ہے۔ جاپانی کمپنی مٹسوبشی کی جانب سے اینگرو پولیمر میں اپنے حصص فروخت کرنے کی خبر کاروباری حلقوں میں تشویش کے ساتھ دیکھی گئی۔
اسی طرح پاکستان اب تک مائیکروسوفٹ جیسی عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو خطے کے دوسرے ممالک کی طرح مکمل آپریشنل ہب میں تبدیل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ سوال یہ ہے کہ آخر کیوں؟
اس کی بنیادی وجوہات واضح ہیں:
پالیسیوں کا عدم تسلسل
بجلی کی بلند ترین قیمتیں
طویل لوڈشیڈنگ
انٹرنیٹ اور موبائل سروسز کی بندش
کرپشن اور کمیشن مافیا
پیچیدہ بیوروکریسی
عدالتی تاخیر
امن و امان کی خراب صورتحال
اور سب سے بڑھ کر سیاسی انتشار
مہنگی بجلی اور تباہ ہوتی صنعت
پاکستان میں بجلی کی قیمتیں خطے کے کئی ممالک سے زیادہ ہوچکی ہیں۔ صنعتکار مسلسل یہ شکایت کررہے ہیں کہ مہنگی بجلی اور گیس کی وجہ سے مقامی مصنوعات عالمی منڈی میں مقابلہ نہیں کرسکتیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کئی فیکٹریاں بند ہوئیں، بے روزگاری بڑھی اور برآمدات متاثر ہوئیں۔
جب صنعت کمزور ہوتی ہے تو معیشت کا پہیہ سست ہوجاتا ہے، اور جب معیشت سست ہوتی ہے تو مہنگائی عام آدمی کا جینا دوبھر کردیتی ہے۔
انٹرنیٹ بندش اور ڈیجیٹل معیشت کو نقصان
دنیا مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل اکنامی اور آئی ٹی ایکسپورٹس کی طرف بڑھ رہی ہے، مگر پاکستان میں انٹرنیٹ کی بندش یا سست روی نے فری لانسرز، سافٹ ویئر کمپنیوں اور آن لائن کاروبار کو شدید نقصان پہنچایا۔ نوجوان طبقہ، جو ملک کی سب سے بڑی طاقت ہوسکتا تھا، اب مایوسی کے عالم میں بیرون ملک مواقع تلاش کررہا ہے۔
عوام کہاں کھڑے ہیں؟
پاکستانی عوام اس وقت شدید ذہنی اور معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔ ایک عام شہری کے لیے سیاست اب نظریات سے زیادہ روزمرہ بقا کا مسئلہ بن چکی ہے۔ لوگ یہ سوال پوچھ رہے ہیں:
کیا جمہوریت صرف اقتدار کی تبدیلی کا نام ہے؟
کیا عوام صرف ووٹ ڈالنے تک محدود ہیں؟
کیا سیاسی قوتیں واقعی عوامی مسائل حل کرنا چاہتی ہیں؟
جب عوام کو انصاف، روزگار، تحفظ اور بنیادی سہولیات نہ ملیں تو جمہوریت کی روح کمزور محسوس ہونے لگتی ہے۔
حل کیا ہے؟
پاکستان کے مسائل کا حل صرف حکومتیں بدلنے میں نہیں بلکہ ریاستی سوچ اور پالیسیوں کے تسلسل میں ہے۔ ملک کو فوری طور پر:
سیاسی استحکام
قومی مکالمہ
مضبوط معاشی پالیسی
آزاد اور غیر جانبدار ادارے
توانائی اصلاحات
سرمایہ کار دوست ماحول
اور قانون کی بالادستی
کی ضرورت ہے۔
جب تک سیاست صرف اقتدار بچانے اور گرانے تک محدود رہے گی، تب تک نہ معیشت مضبوط ہوگی، نہ سرمایہ کاری آئے گی، اور نہ ہی عام پاکستانی کو حقیقی ریلیف مل سکے گا۔
پاکستان وسائل کی کمی کا نہیں بلکہ مستقل مزاج قیادت، سیاسی استحکام اور اجتماعی وژن کی کمی کا شکار ہے۔ اگر ریاست، سیاستدان اور ادارے مل کر قومی مفاد کو ذاتی مفادات پر ترجیح دیں تو پاکستان آج بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے۔
السادات نیوز پاکستان
عوامی مسائل کی حقیقی آواز

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
السادات نیوز پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ براہ کرم اخلاقی دائرے میں رہ کر کمنٹ کریں